Download 32 Qawaid-e-Tazkeer-o-Taneeth PDF قواعد تذکیر و تانیث

Download 32 Qawaid-e-Tazkeer-o-Taneeth PDF قواعد تذکیر و تانیث

Book Name: قواعد تذکیر و تانیث
Author:Jaleel Hasan Jaleel Manik Pori
Category: Urdu Grammar
Type: pdf
Page:15

PDF Viewer

جلیل حسن جلیل مانک پوری کی کتاب “قواعد تذکیر و تانیث” پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کریں اور اردو گرامر کے 32 اہم اصول سیکھیں۔

اردو زبان اور قواعد تذکیر و تانیث کا تعارف اردو زبان اپنی شیرینی اور علمی گہرائی کی وجہ سے دنیا بھر میں پہچانی جاتی ہے، لیکن اس زبان کو صحیح طریقے سے بولنے اور لکھنے کے لیے اس کے قواعد و ضوابط کو سمجھنا نہایت ضروری ہے۔ ان قواعد میں سب سے اہم باب “تذکیر و تانیث” یعنی مذکر اور مؤنث کا فرق ہے۔ جلیل حسن جلیل مانک پوری کی تصنیف “قواعد تذکیر و تانیث” ایک ایسی ہی شاہکار کتاب ہے جو قارئین کو اردو زبان میں الفاظ کے جنسی فرق کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ یہ کتاب محض 15 صفحات پر مشتمل ہے لیکن اپنے اندر علم کا سمندر سموئے ہوئے ہے۔ اس پی ڈی ایف کتاب میں نہایت ہی سادہ اور فصیح انداز میں اردو کے وہ اصول بیان کیے گئے ہیں جن پر عمل کر کے ایک طالب علم اپنی زبان و بیان کی غلطیوں کو جڑ سے ختم کر سکتا ہے۔

مذکر اور مؤنث کے قواعد کی اہمیت اردو میں تذکیر و تانیث کا موضوع اس لیے بھی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہاں بے جان اشیاء کی بھی تذکیر و تانیث ہوتی ہے۔ دیگر زبانوں کے برعکس اردو میں فعل، صفت اور ضمیر کا استعمال جملے میں موجود اسم کی جنس کے مطابق بدل جاتا ہے۔ اگر آپ کو معلوم نہ ہو کہ کوئی لفظ مذکر ہے یا مؤنث، تو آپ کا پورا جملہ غلط ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر “دہی” مذکر ہے یا “میز” مؤنث، ان جیسے سینکڑوں الفاظ کے صحیح استعمال کے لیے مخصوص قواعد وضع کیے گئے ہیں۔ یہ کتاب انھی باریکیوں کو واضح کرتی ہے تاکہ لکھنے اور بولنے والا ابہام کا شکار نہ ہو۔

جلیل حسن جلیل مانک پوری کی علمی خدمات جلیل حسن جلیل مانک پوری اردو ادب کا ایک معتبر نام ہیں۔ انہوں نے اردو زبان کی ترویج اور اس کے قواعد کو سہل بنانے میں گراں قدر خدمات سرانجام دی ہیں۔ ان کی اس کتاب کی خاص بات یہ ہے کہ انہوں نے خشک قواعد کو بھی مثالوں کے ذریعے دلچسپ بنا دیا ہے۔ انہوں نے اس بات کا خاص خیال رکھا ہے کہ ایک عام قاری یا ابتدائی سطح کا طالب علم بھی پیچیدہ لسانی مسائل کو آسانی سے سمجھ سکے۔ 15 صفحات کی یہ مختصر کتاب ان کے گہرے لسانی مطالعے کا نچوڑ ہے جسے ہر اردو دوست کو اپنے پاس محفوظ رکھنا چاہیے۔

کتاب کے بنیادی موضوعات اور 32 قواعد کا احاطہ اس کتاب کا سب سے بڑا حسن اس میں بیان کردہ 32 قواعد ہیں۔ یہ قواعد تذکیر و تانیث کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہیں۔ مصنف نے ان قواعد کو “بمع امثلہ” یعنی مثالوں کے ساتھ بیان کیا ہے، جو سیکھنے کے عمل کو تیز کر دیتا ہے۔ ان قواعد میں یہ بتایا گیا ہے کہ کن حروف پر ختم ہونے والے الفاظ عموماً مذکر ہوتے ہیں اور کن پر ختم ہونے والے مؤنث۔ اس کے علاوہ عربی اور فارسی سے اردو میں آنے والے الفاظ کے تذکیر و تانیث کے اصولوں پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے، جو کہ اردو دان طبقے کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ہے۔

تذکیر و تانیث سیکھنے کے فوائد اس موضوع کے مطالعے کے بے شمار فوائد ہیں۔ سب سے پہلا فائدہ تو یہ ہے کہ انسان کی تحریر میں پختگی آتی ہے۔ جب آپ کسی سرکاری یا تعلیمی ادارے میں اردو تحریر پیش کرتے ہیں تو وہاں گرامر کی غلطی آپ کی علمی قابلیت پر سوالیہ نشان کھڑی کر سکتی ہے۔ دوسرا بڑا فائدہ مسابقتی امتحانات یا تدریسی امتحانات میں کامیابی ہے۔ اردو کے پرچوں میں اکثر تذکیر و تانیث کے حوالے سے سوالات پوچھے جاتے ہیں۔ یہ کتاب ان امتحانات کی تیاری کے لیے ایک بہترین گائیڈ ثابت ہوتی ہے اور وقت بچانے میں مدد دیتی ہے۔

طالب علموں کے لیے ایک بہترین علمی تحفہ سکول، کالج اور یونیورسٹی کے طالب علموں کے لیے یہ کتاب کسی نعمت سے کم نہیں۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ طالب علم جملوں کی درستگی والے سوالات میں نمبر کٹوا دیتے ہیں کیونکہ انہیں مذکر اور مؤنث کا فرق معلوم نہیں ہوتا۔ 15 صفحات کی یہ پی ڈی ایف فائل موبائل یا لیپ ٹاپ میں رکھ کر کسی بھی وقت دہرائی جا سکتی ہے۔ اس کتاب کے مطالعے سے طالب علموں میں یہ شعور پیدا ہوتا ہے کہ زبان محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ یہ اصولوں کے تابع ایک منظم نظام ہے، جسے سیکھنا ہر پڑھنے والے کی ذمہ داری ہے۔

اردو جملہ سازی میں تذکیر و تانیث کا کردار اردو میں فعل کا تعلق براہ راست اسم کی جنس سے ہوتا ہے۔ اگر اسم مذکر ہے تو فعل بھی مذکر کی صورت اختیار کرے گا، جیسے “لڑکا کھاتا ہے” اور “لڑکی کھاتی ہے”۔ لیکن جب بات غیر جاندار اشیاء کی آتی ہے تو معاملہ پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ مثلاً “قلم” مذکر ہے تو “قلم ٹوٹ گیا” کہا جائے گا، جبکہ “پنسل” مؤنث ہے تو “پنسل ٹوٹ گئی” درست ہوگا۔ جلیل مانک پوری صاحب نے انھی باریکیوں کو 32 قواعد کے ذریعے سمجھایا ہے تاکہ کوئی بھی شخص جملہ سازی میں ٹھوکر نہ کھائے۔

تحقیق اور حوالہ جات کی اہمیت اس کتاب میں بیان کردہ قواعد مستند حوالہ جات پر مبنی ہیں۔ اردو زبان کے ماہرین اور لغت نویسوں نے جن اصولوں کو تسلیم کیا ہے، مصنف نے انھی کو سادہ زبان میں مرتب کیا ہے۔ محققین کے لیے یہ کتاب ایک بنیادی ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے جہاں سے وہ اردو کے لسانی ڈھانچے کو سمجھنے کی شروعات کر سکتے ہیں۔ مختصر ہونے کے باوجود اس میں مواد کی جامعیت اسے ایک حوالہ جاتی کتاب کا درجہ دیتی ہے۔

ڈیجیٹل لائبریری اور پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈنگ آج کے دور میں جہاں کتابیں نایاب ہوتی جا رہی ہیں، پی ڈی ایف فارمیٹ نے علم تک رسائی کو آسان بنا دیا ہے۔ “قواعد تذکیر و تانیث” کو پی ڈی ایف میں فراہم کرنے کا مقصد یہی ہے کہ اردو کے اس نایاب نسخے کو محفوظ کیا جا سکے اور اسے عام قاری تک پہنچایا جا سکے۔ یہ فائل سائز میں انتہائی کم ہے جس کی وجہ سے اسے ڈاؤن لوڈ کرنا اور دوسروں کے ساتھ شیئر کرنا بہت آسان ہے۔

اختتامی کلمات اور ڈاؤن لوڈ کی ترغیب اگر آپ اردو زبان کے سچے شیدائی ہیں اور اپنی زبان کو غلطیوں سے پاک کرنا چاہتے ہیں تو یہ کتاب آپ کے لیے ناگزیر ہے۔ جلیل حسن جلیل مانک پوری کی یہ محنت اردو گرامر کے میدان میں ایک روشن چراغ ہے۔ 15 صفحات کی اس مختصر گائیڈ کو پڑھ کر آپ وہ علم حاصل کر سکتے ہیں جو بڑی بڑی ضخیم کتابوں میں بکھرا ہوا ہے۔ ابھی نیچے دیے گئے لنک سے پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کریں اور اپنی اردو کو بہتر بنائیں۔